مرکزی مواد پر جائیں

2-حجتہ الوداع|سید سلیمان ندوی

حجۃ الوداع (Hajatul Wida / Khutbatul Wida) جماعت 10 اردو کا اہم سبق ہے۔ اس صفحے پر Hajatul Wida Notes, Summary, Question Answers, MCQs, تشریح، الفاظ کے معنی اور امتحانی تیاری کے لیے مکمل مواد دستیاب ہے۔ خطبۂ حجۃ الوداع کی تعلیمات، انسانی حقوق، مساوات اور اسلامی اقدار کو آسان زبان میں سمجھیں۔

حجتہ الوداع Hajatul wida سبق جماعت دہم Class 10 میں شامل کیا گیا مضمون سید سلیمان ندوی کی کتاب رحمت عالم سے ماخوذ ہے۔

حجۃ الوداع کا خطبہ اسلامی تاریخ کا سب سے جامع اور مؤثر خطبہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں دین، معاشرت، معیشت اور اخلاقیات سے متعلق بنیادی اصول اختصار کے ساتھ لیکن مکمل جامعیت سے بیان کیے گئے ہیں۔ اس سبق میں یہی خطبہ نثری صورت میں پیش کیا گیا ہے، جس کی زبان سادہ، پروقار اور بلیغ ہے۔

1.1 سبق حجتہ الوداع کا تعارف

(Introduction to Khutbat-ul-Wida (Farewell Sermon))

جماعت: دسویں (Class 10) | مضمون: اردو زبانِ اول | کتاب: نو بہارِ ادب حصہ اوّل سبق نمبر: 2 | صنف: خطبہ (Sermon/Speech) | تخلیق کار: سید سلیمان ندوی

خطبہ حجتہ الوداع اسلامی تاریخ کی سب سے اہم اور یادگار تقریروں میں سے ایک ہے۔ یہ وہ آخری خطبہ ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے 10 ہجری میں حجۃ الوداع کے موقع پر میدانِ عرفات میں لاکھوں مسلمانوں کے سامنے ارشاد فرمایا۔ اس خطبے کی اہمیت اس بات میں ہے کہ اس میں انسانیت کے لیے وہ بنیادی اصول بیان کیے گئے جو آج بھی اتنے ہی متعلقہ (relevant) ہیں جتنے چودہ سو سال پہلے تھے — مساوات، عدل، حقوقِ نسواں، سود کی حرمت، جانی و مالی تحفظ، اور نسلی و قبائلی برتری کا خاتمہ۔ یہ سبق طلبہ کو نہ صرف اسلامی تعلیمات سے روشناس کراتا ہے بلکہ ایک مثالی معاشرے کے خدوخال بھی سمجھاتا ہے۔ سید سلیمان ندوی نے اپنی مشہور کتاب "رحمتِ عالم” سے یہ اقتباس لے کر اسے نہایت سادہ، رواں اور پرتاثیر انداز میں پیش کیا ہے۔

1.2 اکتسابی نکات (Acquisition Points)

  1. طلبہ حجۃ الوداع کے پس منظر اور اہمیت سے واقف ہوتے ہیں۔
  2. خطبے کے مقام (عرفات)، تاریخ اور موقع کی معلومات حاصل کرتے ہیں۔
  3. اسلام میں مساوات اور اخوت کے تصور کو سمجھتے ہیں۔
  4. جاہلیت کے رسم و رواج (خون کا انتقام، سود، ذات پات) کے خاتمے کا علم حاصل کرتے ہیں۔
  5. عورتوں کے حقوق سے متعلق اسلامی نقطہ نظر سے آگاہ ہوتے ہیں۔
  6. غلاموں اور خادموں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔
  7. جان، مال اور عزت کے تحفظ کے اصول سیکھتے ہیں۔
  8. خطبے کی زبان و بیان کا اسلوب (سادگی، بلاغت، تکرار) پہچانتے ہیں۔
  9. خطیبانہ نثر (oratorical prose) کی خصوصیات سمجھتے ہیں۔
  10. سید سلیمان ندوی کی سیرت نگاری کے اسلوب سے واقفیت حاصل کرتے ہیں۔
  11. عربی و فارسی الفاظ کے اردو میں استعمال اور ان کے معانی سیکھتے ہیں۔
  12. خطبے سے اخذ ہونے والے اخلاقی و سماجی سبق کو زندگی میں اپنانا سیکھتے ہیں۔

1.3 آموزشی حاصل (Learning Outcomes)

  1. حجۃ الوداع کے خطبے کا پس منظر بیان کرتے ہیں۔
  2. خطبے کے اہم نکات کو اپنے الفاظ میں واضح کرتے ہیں۔
  3. مساوات اور اخوتِ انسانی کا پیغام سمجھتے ہیں۔
  4. جاہلیت کی بری رسموں اور اسلام کی اصلاح میں فرق واضح کرتے ہیں۔
  5. عورتوں اور غلاموں کے حقوق بیان کرتے ہیں۔
  6. سود اور خون کے انتقام کی حرمت کا سبب بتاتے ہیں۔
  7. خطیبانہ اسلوب کی خصوصیات پہچانتے ہیں۔
  8. مشکل الفاظ کے درست معانی استعمال کرتے ہیں۔
  9. متن سے اخلاقی سبق اخذ کرتے ہیں۔
  10. سید سلیمان ندوی کے اسلوبِ نگارش کو پہچانتے ہیں۔
  11. عربی و فارسی تراکیب کا درست استعمال کرتے ہیں۔
  12. جدید معاشرتی مسائل (مساوات، انصاف) پر خطبے کی روشنی میں رائے دیتے ہیں۔

1.4 تخلیق کار کا تعارف (سید سلیمان ندوی)

سید سلیمان ندوی 1884ء میں ریاستِ بہار کے پٹنہ ضلع کے ایک چھوٹے سے گاؤں "دیسنہ” میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے دور کے ایک جید عالم، بلند پایہ مؤرخ، محقق اور نقاد کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ ان کی ابتدائی تعلیم روایتی دینی ماحول میں ہوئی، جہاں انہوں نے قرآن، حدیث اور عربی ادب کی گہری تعلیم حاصل کی۔ بعد میں وہ علامہ شبلی نعمانی کے شاگردوں میں شامل ہوئے اور دارالمصنفین، اعظم گڑھ سے وابستہ ہو گئے۔

علامہ شبلی نعمانی کی نامکمل رہ جانے والی عظیم تصنیف "سیرت النبیؐ” کو سید سلیمان ندوی نے اپنے علم و تحقیق کی بنیاد پر تکمیل تک پہنچایا، جو ان کی علمی خدمات کا سب سے روشن باب ہے۔ وہ برسوں دارالمصنفین کے مشہور علمی رسالے "معارف” کے مدیر رہے اور اس کے ذریعے اردو ادب اور اسلامی تحقیق کو نئی جہت دی۔

سید سلیمان ندوی کا طرزِ تحریر سادہ، رواں اور دلکش ہے۔ وہ پیچیدہ مضامین کو بھی اس انداز میں بیان کرتے ہیں کہ عام قاری بھی آسانی سے سمجھ سکے۔ ان کے یہاں تحقیق کی گہرائی اور بیان کی سادگی دونوں بیک وقت ملتی ہیں، جو انہیں اپنے ہم عصر علماء میں ممتاز بناتی ہے۔

تقسیمِ ہند کے بعد سید سلیمان ندوی پاکستان چلے گئے، جہاں 1953ء میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کی یادگار تصانیف میں "ارضِ القرآن”، "رحمتِ عالم”، "حیاتِ شبلی”، "خطباتِ مدراس”، "نقوشِ سلیمانی” اور "سیرتِ عائشہؓ” شامل ہیں۔ زیرِ مطالعہ سبق "خطبۃ الوداع” ان کی کتاب "رحمتِ عالم” سے لیا گیا ہے، جس میں انہوں نے سیرتِ نبویؐ کے مختلف پہلوؤں کو نہایت خوبصورت اور مدلل انداز میں پیش کیا ہے۔ ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں اردو دنیا میں ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

1.5 صنف کا تعارف: خطبہ (Khutba)

خطبہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی "تقریر” یا "خطاب” کے ہیں۔ اصطلاح میں خطبہ اس منظوم یا منثور کلام کو کہتے ہیں جو کسی جلسے، اجتماع یا موقع پر لوگوں کے سامنے مخاطب ہو کر پیش کیا جائے، خاص طور پر نصیحت، رہنمائی یا کسی اہم پیغام کے ابلاغ کے لیے۔ خطبے کی زبان عام تحریر سے مختلف ہوتی ہے — اس میں تکرار، پرزور جملے، سوالیہ اور استفہامیہ انداز، اور جذباتی اپیل کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ سننے والوں کے دل و دماغ پر گہرا اثر پڑے۔

اسلامی روایت میں خطبہ ایک مستقل صنف کی حیثیت رکھتا ہے — جمعہ کا خطبہ، عیدین کے خطبے، اور نکاح کا خطبہ اس کی مثالیں ہیں۔ حجۃ الوداع کا خطبہ اسلامی تاریخ کا سب سے جامع اور مؤثر خطبہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں دین، معاشرت، معیشت اور اخلاقیات سے متعلق بنیادی اصول اختصار کے ساتھ لیکن مکمل جامعیت سے بیان کیے گئے ہیں۔ اس سبق میں یہی خطبہ نثری صورت میں پیش کیا گیا ہے، جس کی زبان سادہ، پروقار اور بلیغ ہے۔

1.6 تفصیلی خلاصہ (Detailed Summary)

10 ہجری میں ذیقعدہ کے مہینے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا کہ اس سال آپؐ حج کے لیے مکہ معظمہ تشریف لے جائیں گے۔ یہ خبر پورے عرب میں پھیل گئی اور دور دراز علاقوں سے صحابہ کرام آپؐ کے ساتھ حج ادا کرنے کے لیے مدینہ پہنچنے لگے۔ ذیقعدہ کی 26 تاریخ کو آپؐ نے غسل فرمایا، احرام باندھا اور ظہر کی نماز دو رکعت ادا کر کے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے بھر آپؐ لبیک کہتے رہے اور صحابہ کرام بھی آپؐ کے ساتھ بلند آواز میں لبیک پڑھتے ہوئے آگے بڑھتے رہے۔ 5 ذی الحجہ کو آپؐ مکہ پہنچے اور کعبے کا طواف کیا، صفا و مروہ کی سعی کی۔

عمرہ سے فارغ ہو کر آپؐ نے دوسرے صحابہ کو بھی احرام کھولنے کی ہدایت دی۔ 8 ذی الحجہ کو حضرت علیؓ کے ساتھ حاجیوں کا قافلہ منیٰ کی طرف روانہ ہوا، دوسرے دن نویں ذی الحجہ کی صبح سب مسلمانوں کے ساتھ عرفات کی طرف روانہ ہوئے۔ عرفات میں آپؐ نے دوپہر کا قصوا اونٹنی پر سوار ہو کر وہ تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا جسے "خطبۃ الوداع” کہا جاتا ہے۔ اس خطبے کا آغاز آپؐ نے یہ فرما کر کیا کہ شاید اس کے بعد ہم پھر یہاں جمع نہ ہو سکیں، اس لیے میری بات غور سے سنو۔

خطبے میں آپؐ نے سب سے پہلے جان و مال اور عزت و آبرو کی حرمت کو اسی طرح مقدس قرار دیا جیسے اس مہینے، اس شہر اور اس دن کی حرمت ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ جاہلیت کے تمام سودی معاملات، خون کے پرانے انتقام اور غلامانہ رسم و رواج آج سے ختم کیے جاتے ہیں۔ سب سے پہلے آپؐ نے اپنے خاندان کے حقوق معاف کر کے اس اصول پر خود عمل کر کے دکھایا۔

اس کے بعد آپؐ نے عورتوں کے حقوق پر گفتگو فرمائی اور کہا کہ تمہارا عورتوں پر حق ہے اور عورتوں کا تم پر حق ہے، دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آنا چاہیے۔ پھر آپؐ نے مسلمانوں کو بھائی بھائی قرار دیا اور فرمایا کہ کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی برتری حاصل نہیں، سوائے تقویٰ کے۔ اس اعلان نے نسلی و قبائلی امتیاز کی ہزاروں سالہ روایت کو یکسر ختم کر دیا۔

آپؐ نے یہ بھی فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص جو چیز چھوڑ جاتا ہے وہ اللہ کی کتاب ہے، اگر تم اسے مضبوطی سے پکڑے رہو تو کبھی گمراہ نہ ہو گے۔ خطبے کے آخر میں آپؐ نے مجمع سے پوچھا: "کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟” لوگوں نے بلند آواز سے گواہی دی: "ہاں، آپؐ نے پیغام پہنچا دیا اور اپنا فرض ادا کر دیا۔” اس پر آپؐ نے آسمان کی طرف انگلی اٹھا کر فرمایا: "اے خدا! تو گواہ رہ۔”

خطبے سے فارغ ہو کر آپؐ نے حضرت بلالؓ سے اذان دلوائی اور ظہر و عصر کی نماز ایک ساتھ ادا فرمائی۔ اس موقع پر قرآن کی آخری آیت (جس کا ترجمہ ہے: آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا، اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کے طور پر پسند کر لیا) نازل ہوئی، جس سے سب پر یہ واضح ہو گیا کہ آپؐ کی نبوت اور دین کی تکمیل ہو چکی ہے۔ خطبے سے فارغ ہونے کے بعد آپؐ نے حج کے تمام ارکان ادا کیے اور 14 ذی الحجہ کو فرصت پا کر دوسروں کے ساتھ ساتھ اپنا قافلہ سارا کعبہ پر پڑھ کر اپنے مقام کی طرف روانہ ہو گئے اور حضرت محمدؐ نے مہاجرین اور انصار کے ساتھ مدینہ کی راہ لی۔ (سبق کی تفصیلی روداد کا خلاصہ —

1.8 مشکل الفاظ (Difficult Words)

لفظ معنی
احرامحج و عمرہ کا لباس، بغیر سلے سفید کپڑے
انتقامبدلہ، طوفان، جوش
تہذیبلنگی، تنبیہ
جتھہجماعت، گروہ، فرقہ
جمرہوہ جگہ جہاں حضرت ابراہیمؑ نے شیطان کو کنکری ماری
حجۃالوداعآخری حج (رخصت کا حج)
شریعتاسلامی قانون، طریقہ، اصول
طوافکسی چیز کے ارد گرد گھومنا، کعبے کے گرد چکر لگانا
عجمعرب کے سوا دیگر ممالک (مراد ایران)
قصواآنحضرتؐ کی اونٹنی کا نام
مزدلفہمنیٰ اور عرفات کے درمیان واقع مقام
منیٰمکہ سے 6 کلومیٹر پر واقع ایک مقام
ناقہاونٹنی، قافلہ، کارواں
بندہغلام، بدلہ، خون، خون کا لَو، گھر
غلامخدمت گزار، خدمتی
اِذنحکم، اجازت
نظامتناظم کا کام، کاروائی چلانا
ارشادہدایت، حکم
دادتعریف، تحسین، عدل و انصاف
تپاکگرم جوشی، شوق
اراکینرکن کی جمع، ممبر، امراء و وزراء
خروششور، غل
شرکتشامل ہونا، شریک ہونا
عنادلڑائی، دشمنی
اجلاسحاکم کے بیٹھنے کی جگہ، دربار، جلسہ
فروغروشنی، ترقی
طُمطراقشان و شوکت، دھوم دھام
نمازِ عشقنماز محبت سے
صداآواز، گونج
نصابمتعین شدہ درس، سرمایہ، وہ مال جس پر زکوٰۃ واجب ہے
اسیریقید نظر بندی
مفرورجو بھاگ گیا ہو
مقتولجسے قتل کیا گیا

1.9 مترادفات (Synonyms)

بندہ = غلام | خطبہ = تقریر | خطاب | حجۃالوداع = آخری حج | طواف = چکر لگانا | ناقہ = اونٹنی | اراکین = ارکان | فروغ = ترقی | اذن = اجازت | حکم | جتھہ = جماعت | گروہ | ارشاد = ہدایت | حکم | داد = تعریف | تحسین | اجلاس = جلسہ | دربار | تپاک = شوق | گرمجوشی | حرمت = عزت | احترام | فرصت = وقت | موقع | حق = سچ | انصاف

1.10 اضداد (Antonyms)

حلال × حرام | امن × جنگ | آغاز × انجام | حاضر × غائب | آقا × غلام | دعا × بددعا | عزت × ذلت | دوست × دشمن | حق × باطل | امیر × غریب | بلند × پست | روشنی × اندھیرا | خوشی × غم | جوانی × بڑھاپا | ظلم × انصاف | سچ × جھوٹ | آسان × مشکل | اول × آخر | زندگی × موت | جمع × تفریق

1.12 گرامر — جملے کا مفرد و مرکب ہونا

تعریف (کتابی): الفاظ کا ایسا مجموعہ جس سے پوری طرح بات سمجھ میں آ جائے، جملہ کہلاتا ہے۔ ذات کے لحاظ سے جملے کی دو قسمیں ہیں: (۱) مفرد جملہ (۲) مرکب جملہ۔

مفرد جملہ: وہ جملہ جو ایک ہی مسند اور مسند الیہ سے بنا ہو، جیسے: "رات گزاری۔” / "منادی ہوئی۔”

مرکب جملہ: وہ جملہ جو دو مفرد جملوں سے بنا ہو، جیسے: "نماز ادا کی اور قصوا اونٹنی پر سوار ہوئے۔” / "خدا کا پیغام پہنچا دیا اور اپنا فرض ادا کر دیا۔”

اصطلاحات:

  • مسند/خبر: جملے کا وہ حصہ جس میں کسی شخص یا چیز کے بارے میں کچھ کہا جائے۔
  • مسند الیہ/مبتداء: جملے کا وہ حصہ جس میں کسی شخص یا چیز کا ذکر ہو۔

سبق کی مثالیں:

  1. "آپؐ نے احرام باندھا۔” (مفرد)
  2. "آپؐ نے احرام باندھا اور روانہ ہوئے۔” (مرکب)
  3. "لوگوں نے گواہی دی۔” (مفرد)
  4. "لوگوں نے گواہی دی اور خدا کو گواہ بنایا۔” (مرکب)

1.13 اخلاقی اقدار

مساوات، عدل، عورتوں کا احترام، جان و مال کا تحفظ، اپنی ذمہ داری پوری ایمانداری سے نبھانا، خود سے اصلاح کی ابتدا کرنا۔


🟢 واٹس ایپ 🔵 ٹیلیگرام ✉️ ای میل

متعلقہ الفاظ

SSLC URDU NOTES KSEAB BLUE PRINT HAJATULVIDA 2-حجتہ الوداع، سید سلیمان ندوی

خود آزمائی کوئز

0 / 72 سوالات مکمل
🔵 1۔ سبق 'حجۃ الوداع' کے مصنف ______ ہیں۔
وضاحت: یہ خطبہ ہماری درسی کتاب 'نو بہارِ ادب' کے سبق حجۃ الوداع سے لیا گیا ہے جس کے مصنف سید سلیمان ندوی ہیں۔
🔵 2۔ سید سلیمان ندوی ______ ء میں پیدا ہوئے۔
وضاحت: سید سلیمان ندوی 1884ء میں ریاستِ بہار کے ضلع پٹنہ کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔
🔵 3۔ سید سلیمان ندوی کی جائے پیدائش ریاستِ بہار کا گاؤں ______ ہے۔
وضاحت: سید سلیمان ندوی 1884ء میں بہار کے ضلع پٹنہ کے چھوٹے سے گاؤں 'دسنہ' میں پیدا ہوئے۔
🔵 4۔ سید سلیمان ندوی کو ______ کا شاگرد ہونے کا شرف حاصل تھا۔
وضاحت: سید سلیمان ندوی کو علامہ شبلی نعمانی کا شاگرد ہونے کا شرف حاصل تھا۔
🔵 5۔ سید سلیمان ندوی طویل عرصے تک اعظم گڑھ سے شائع ہونے والے رسالہ ______ کے ایڈیٹر رہے۔
وضاحت: سید سلیمان ندوی رسالہ 'معارف' (اعظم گڑھ) کے ایڈیٹر رہے۔
🔵 6۔ سید سلیمان ندوی کی مشہور تصانیف میں ______ شامل ہیں۔
وضاحت: ارض القرآن، رحمتِ عالم، حیاتِ شبلی، خطباتِ مدراس، نقوشِ سلیمانی اور سیرتِ عائشہ ان کی تصانیف ہیں۔
🔵 7۔ سید سلیمان ندوی نے علامہ شبلی کی ادھوری تصنیف ______ کو تکمیل تک پہنچایا۔
وضاحت: سید سلیمان ندوی نے علامہ شبلی نعمانی کی ادھوری تصنیف 'سیرت النبیؐ' کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔
🔵 8۔ سید سلیمان ندوی کا انتقال ______ ء میں ہوا۔
وضاحت: سید سلیمان ندوی کا انتقال 1953ء میں ہوا۔
🔵 9۔ سید سلیمان ندوی کو علمی حیثیت سے ______ کہا جا سکتا ہے۔
وضاحت: سید سلیمان ندوی ایک جید عالم، مؤرخ، محقق اور بلند پایہ نقاد تھے۔
🔵 10۔ سید سلیمان ندوی کی تصنیف 'سیرتِ عائشہ' کا موضوع ______ ہے۔
وضاحت: 'سیرتِ عائشہ' سید سلیمان ندوی کی تصنیف ہے جو حضرت عائشہؓ کی سیرت پر مبنی ہے۔
🔵 11۔ سبق 'حجۃ الوداع' کی صنفِ ادب ______ ہے۔
وضاحت: اس سبق کی صنف خطبہ (نثر) ہے۔
🔵 12۔ خطبہ حجۃ الوداع میں بنیادی طور پر ______ کے حقوق اور اصولوں کا بیان ہے۔
وضاحت: خطبے میں جان و مال کی حرمت، مساوات و اخوت اور عورتوں کے حقوق جیسے بنیادی اصول بیان کیے گئے ہیں۔
🔵 13۔ خطبہ حجۃ الوداع حضورؐ نے ______ ارشاد فرمایا۔
وضاحت: یہ خطبہ حجۃ الوداع یعنی حضورؐ کے آخری حج کے موقع پر میدانِ عرفات میں ارشاد فرمایا گیا۔
🔵 14۔ خطبے میں جاہلیت کے دستور و رسوم کے بارے میں حضورؐ کا حکم ______ تھا۔
وضاحت: حضورؐ نے فرمایا کہ جاہلیت کے سارے دستور اور رسم و رواج آپؐ کے دونوں پاؤں کے نیچے ہیں یعنی منسوخ ہیں۔
🔵 15۔ خطبہ حجۃ الوداع کا مرکزی پیغام ______ ہے۔
وضاحت: خطبے کا مرکزی خیال انسانی حقوق، امن، اخوت اور دینِ اسلام کی تکمیل کے پیغام پر مبنی ہے۔
🔵 16۔ خطبہ حجۃ الوداع میں غلاموں اور خدام کے بارے میں حضورؐ کا حکم ______ تھا۔
وضاحت: حضورؐ نے فرمایا 'اپنے غلاموں کے حق میں انصاف کرو، جو خود کھاؤ وہ اُن کو کھلاؤ'۔
🔵 17۔ خطبہ حجۃ الوداع کی تعلیمات کو آج کے دور سے جوڑا جائے تو یہ ______ کے موضوعات سے متعلق ہیں۔
وضاحت: خطبے کے نکات کو موجودہ سماجی مسائل مساوات، انصاف اور حقوقِ نسواں سے جوڑا جاتا ہے۔
🔵 18۔ لفظ 'احرام' کے معنی ______ ہیں۔
وضاحت: حج اور عمرہ کے مخصوص، بغیر سلے لباس کو احرام کہتے ہیں۔
🔵 19۔ لفظ 'ناقہ' کے اردو معنی ______ ہیں۔
وضاحت: عربی لفظ 'ناقہ' کے اردو معنی اونٹنی ہیں۔
🔵 20۔ حضورؐ کی مشہور اونٹنی کا نام ______ تھا۔
وضاحت: حضورؐ کی سواری کی اونٹنی کا نام 'قصویٰ' تھا۔
🔵 21۔ لفظ 'طواف' کے معنی ______ کے ہیں۔
وضاحت: طواف کے معنی کسی چیز کے اردگرد گھومنا، کسی مقدس مقام کے گرد چکر لگانا کے ہیں۔
🔵 22۔ لفظ 'عجم' سے مراد ______ ہیں۔
وضاحت: 'عجم' سے مراد عرب کے علاوہ دیگر ممالک، خصوصاً ایران، ہیں۔
🔵 23۔ لفظ 'مزدلفہ' سے مراد ______ ہے۔
وضاحت: مزدلفہ منیٰ اور عرفات کے درمیان واقع ایک مقام ہے۔
🔵 24۔ لفظ 'قافلہ' کا مطلب ______ ہے۔
وضاحت: 'قافلہ' کے معنی کارواں یا جماعت کے ہیں۔
🔵 25۔ لفظ 'دستور' کے معنی ______ ہیں۔
وضاحت: 'دستور' کے معنی ڈھنگ، قاعدہ اور رسم کے ہیں۔
🔵 26۔ لفظ 'حجۃ الوداع' کے معنی ______ ہیں۔
وضاحت: 'حجۃ الوداع' کے معنی 'آخری حج' کے ہیں۔
🔵 27۔ پہلی جنوری کی مناسبت دوسری جوری مکمل کریں۔ آغاز : انجام :: آقا : ______
وضاحت: جیسے 'آغاز' کی ضد 'انجام' ہے، ویسے ہی 'آقا' کی ضد 'غلام' ہے — یہ تعلق سبق کی فرہنگ میں دیا گیا ہے۔
🔵 28۔ صحابی : صحابہ :: آیت : ______ جوڑی مکمل کریں۔
وضاحت: جیسے 'صحابی' کی جمع 'صحابہ' ہے، ویسے ہی 'آیت' کی جمع 'آیات' ہے۔
🔵 29۔ مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے والے: 'مہاجرین' :: مدینہ کے باشندے: _____ جوڑی مکمل کریں۔
وضاحت: جیسے مکہ سے ہجرت کرنے والے 'مہاجرین' کہلاتے ہیں، ویسے ہی مدینہ کے باشندے 'انصار' کہلاتے ہیں۔
🔵 30۔ لفظ 'آقا' کی ضد ______ ہے۔
وضاحت: 'آقا' کی ضد 'غلام' ہے۔
🔵 31۔ لفظ 'امن' کی ضد ______ ہے۔
وضاحت: 'امن' کی ضد 'جنگ' ہے۔
🔵 32۔ لفظ 'دعا' کی ضد ______ ہے۔
وضاحت: 'دعا' کی ضد 'بددعا' ہے۔
🔵 33۔ لفظ 'بدلہ' کا مترادف ______ ہے۔
وضاحت: 'بدلہ' کا مترادف 'انتقام' ہے۔
🔵 34۔ لفظ 'خانہ' کا مترادف ______ ہے۔
وضاحت: 'خانہ' کا مترادف 'گھر' ہے۔
🔵 35۔ لفظ 'مہینہ' کا مترادف ______ ہے۔
وضاحت: 'مہینہ' کا مترادف 'ماہ' ہے۔
🔵 36۔ الفاظ کا وہ مجموعہ جس سے پوری بات سمجھ میں آجائے ______ کہلاتا ہے۔
وضاحت: 'الفاظ کا ایسا مجموعہ جس سے پوری طرح بات سمجھ میں آجائے جملہ کہلاتا ہے'۔
🔵 37۔ صورت کے لحاظ سے جملے کی ______ قسمیں ہیں۔
وضاحت: صورت کے لحاظ سے جملے کی دو قسمیں ہیں: مفرد جملہ اور مرکب جملہ۔
🔵 38۔ وہ جملہ جو ایک ہی مسند اور مسند الیہ سے بنے ______ کہلاتا ہے۔
وضاحت: ایک ہی مسند اور مسند الیہ سے بننے والا جملہ مفرد جملہ کہلاتا ہے، جیسے 'رات گزاری'۔
🔵 39۔ وہ جملہ جو دو مفرد جملوں کو ملا کر بنایا جائے ______ کہلاتا ہے۔
وضاحت: دو مفرد جملوں کو ملا کر بننے والا جملہ مرکب جملہ کہلاتا ہے، جیسے 'نماز ادا کی اور قصویٰ اونٹنی پر سوار ہوئے'۔
🔵 40۔ جملے کا وہ حصہ جس میں کسی شخص یا چیز کے بارے میں کچھ کہا جائے ______ کہلاتا ہے۔
وضاحت: جس حصے میں کسی کے بارے میں کہا جائے وہ مسند یا خبر کہلاتا ہے۔
🔵 41۔ جملے کا وہ حصہ جس میں کسی شخص یا چیز کا ذکر ہو ______ کہلاتا ہے۔
وضاحت: جس حصے میں کسی شخص یا چیز کا ذکر ہو وہ مسند الیہ یا مبتدا کہلاتا ہے۔
🔵 42۔ جملہ 'خدا کا پیغام پہنچا دیا اور اپنا فرض ادا کر دیا' قواعد کے لحاظ سے ______ ہے، کیونکہ یہ دو مفرد جملوں سے بنا ہے۔
وضاحت: یہ جملہ دو مفرد جملوں سے مل کر بنا ہے، اس لیے یہ مرکب جملہ کہلاتا ہے۔
🔵 43۔ 'رات گزاری' یہ جملہ مفرد جملہ کہلاتا ہے، کیونکہ ______۔
وضاحت: 'رات گزاری' مفرد جملہ ہے کیونکہ اس میں صرف ایک مسند اور ایک مسند الیہ ہے۔
🔵 44۔ ان جملوں میں مرکب جملہ ______ ہے۔
وضاحت: 'اپنے غلاموں کے حق میں انصاف کرو اور جو خود کھاؤ وہ اُن کو کھلاؤ' دو مفرد جملوں سے مل کر بنا ہے، اس لیے مرکب جملہ ہے۔
🔵 45۔ خطبے میں مذکور فقرہ 'جان و مال کی حرمت' سے مراد ______ ہے۔
وضاحت: خطبے میں جان، مال اور عزت کی حرمت کا اصول بیان کیا گیا ہے یعنی انہیں نقصان پہنچانا حرام ہے۔
🔵 46۔ جملہ 'ہم کہیں گے کہ آپؐ نے خدا کا پیغام پہنچا دیا اور اپنا فرض ادا کر دیا' ______ کہا گیا۔
وضاحت: حضورؐ نے صحابہ سے پوچھا تھا کہ تم سے خدا کے ہاں میری نسبت پوچھی جائے گی تو کیا جواب دو گے، جس پر ایک لاکھ زبانوں نے یہ جواب دیا۔
🔵 47۔ 'اے خدا تو گواہ رہ' یہ جملہ حضورؐ نے ______ ارشاد فرمایا۔
وضاحت: صحابہ کی گواہی سننے کے بعد حضورؐ نے آسمان کی طرف انگلی اٹھائی اور فرمایا 'اے خدا تو گواہ رہ'۔
🔵 48۔ 'حج کے مسئلے سیکھ لو، میں نہیں جانتا کہ پھر حج کر سکوں گا' — یہ جملہ حضورؐ نے اس لیے فرمایا کیونکہ ______۔
وضاحت: یہ جملہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ دین کا ہر عمل نبی کریمؐ سے سیکھنا ضروری ہے، کیونکہ یہ آپؐ کا آخری حج تھا۔
🔵 49۔ 'کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی بڑائی نہیں' — یہ جملہ ______ کے تحت ارشاد ہوا۔
وضاحت: میدانِ عرفات میں ایک لاکھ کے مجمع کو اخوت و بھائی چارگی کا پیغام دیتے ہوئے حضورؐ نے یہ جملہ فرمایا۔
🔵 50۔ 'لوگو! امن و سکون کے ساتھ، لوگو! امن و سکون کے ساتھ' — حضورؐ نے یہ الفاظ دہرائے، ______۔
وضاحت: جب ایک لاکھ کے قریب حاجیوں کے ہجوم میں تلاطم کی کیفیت پیدا ہوئی تو حضورؐ نے بار بار یہ الفاظ ارشاد فرمائے۔
🔵 51۔ 'جو یہاں موجود ہے وہ اس پیغام کو اس تک پہنچا دے جو یہاں نہیں' — یہ ارشاد ______ آیا۔
وضاحت: یہ کلمات خطبۂ حجۃ الوداع کے اختتام پر عازمینِ حج کو دین کا پیغام آگے پہنچانے کی اہم ذمہ داری سونپتے ہوئے فرمائے۔
🔵 52۔ خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر حضورؐ نے صحابہ سے ______ میں خطاب فرمایا۔
وضاحت: حضورؐ نے صحابہ سے میدانِ عرفات میں خطاب فرمایا۔
🔵 53۔ خطبہ حجۃ الوداع کے دوران حضورؐ پر نازل ہونے والی قرآنی آیت کا مفہوم ______ تھا۔
وضاحت: حج کے دوران نازل ہونے والی آیت کا ترجمہ یہ تھا کہ اللہ نے دین کو مکمل کر دیا اور اسلام کو پسندیدہ دین قرار دے دیا۔
🔵 54۔ جملہ 'جو یہاں موجود ہے وہ اس پیغام کو اس تک پہنچا دے جو یہاں نہیں' بحوالہ متن سبق ______ سے لیا گیا ہے۔
وضاحت: درست جواب 'حجۃ الوداع — سید سلیمان ندوی' ہے۔
🔵 55۔ لفظ 'حکم' کی جمع ______ ہے۔
وضاحت: 'حکم' کی جمع 'احکام' ہے۔
🔵 56۔ لفظ 'منزل' کی جمع ______ ہے۔
وضاحت: 'منزل' کی جمع 'منازل' ہے۔
🔵 57۔ لفظ 'خطبہ' کی جمع ______ ہے۔
وضاحت: 'خطبہ' کی جمع 'خطبات' ہے۔
🔵 58۔ ذو معنی لفظ 'عہد' کا ایک معنی 'زمانہ، دور' ہے تو دوسرا معنی ______ ہے۔
وضاحت: 'عہد' کے دو معنوی فرق ہیں: زمانہ/دور اور وعدہ/حلف/قسم۔
🔵 59۔ ذو معنی لفظ 'حق' کا ایک معنی 'سچ، درست' ہے تو دوسرا معنی ______ ہے۔
وضاحت: 'حق' کے دو معنوی فرق ہیں: سچ/درست اور حصہ/فرض۔
🔵 60۔ ذو معنی لفظ 'مہر' کا ایک معنی 'سورج' ہے تو دوسرا معنی ______ ہے۔
وضاحت: 'مہر' کے دو معنوی فرق ہیں: سورج اور نکاح کے وقت شوہر کی جانب سے بیوی کو دیا جانے والا مال۔
🔵 61۔ خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر مسلمانوں کی تعداد تقریباً ______ تھی۔
وضاحت: حجۃ الوداع کے موقع پر تقریباً ایک لاکھ مسلمان موجود تھے۔
🔵 62۔ مزدلفہ میں قیام کے دوران حضورؐ نے ______ کی نمازیں اکٹھی ادا کیں۔
وضاحت: مزدلفہ میں قیام کے دوران حضورؐ نے مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کیں۔
🔵 63۔ حضورؐ نے آٹھویں ذی الحجہ کو سارے مسلمانوں کے ساتھ ______ میں قیام فرمایا۔
وضاحت: آٹھویں ذی الحجہ کو حضورؐ نے سارے مسلمانوں کے ساتھ منیٰ میں قیام فرمایا۔
🔵 64۔ حضورؐ نویں ذی الحجہ کو منیٰ سے روانہ ہو کر ______ آ کر ٹھہرے۔
وضاحت: نویں ذی الحجہ کو حضورؐ منیٰ سے روانہ ہو کر عرفات آ کر ٹھہرے۔
🔵 65۔ حضورؐ حج کے لیے ______ ذی القعدہ کو روانہ ہوئے۔
وضاحت: حضورؐ 26 ذی القعدہ کو حج کے لیے روانہ ہوئے۔
🔵 66۔ حضورؐ ______ ذی الحجہ کو مکہ میں داخل ہوئے۔
وضاحت: حضورؐ 5 ذی الحجہ کو مکہ میں داخل ہوئے۔
🔵 67۔ مکہ میں داخلے کے بعد کعبہ نظر آتے ہی حضورؐ نے یہ دعا فرمائی: ______۔
وضاحت: کعبہ نظر آتے ہی حضورؐ نے دعا کی 'اے خدا اس گھر کو عزت اور شرف دے'۔
🔵 68۔ خطبہ حجۃ الوداع کے بعد اذان ______ نے دی۔
وضاحت: خطبہ حجۃ الوداع کے بعد حضرت بلالؓ نے اذان دی۔
🔵 69۔ یمنی حاجیوں کو ساتھ لے کر مکہ پہنچنے والے صحابیِ رسولؐ ______ تھے۔
وضاحت: یمنی حاجیوں کو ساتھ لے کر مکہ پہنچنے والے صحابی حضرت علیؓ تھے۔
🔵 70۔ حضورؐ نے سب سے پہلے ______ خون کا بدلہ معاف کیا۔
وضاحت: حضورؐ نے سب سے پہلے ربیعہ بن حارث کے بیٹے کے خون کا بدلہ معاف کیا۔
🔵 71۔ حضورؐ نے ہر مسلمان کو دوسرے مسلمان کا ______ قرار دیا۔
وضاحت: حضورؐ نے ہر مسلمان کو دوسرے مسلمان کا بھائی قرار دیا۔
🔵 72۔ حضورؐ نے مکہ کو ______ قرار دیا۔
وضاحت: حضورؐ نے مکہ کو عزت والا شہر قرار دیا۔
2-حجتہ الوداع|سید سلیمان ندوی
0%
72کل سوالات
0کوشش کی گئی
0صحیح
0غلط
RehbarNova.com
اوپر تک سکرول کریں۔